حدیث ۴۴۶۱
نبی صلى الله عليه وسلم کا ترکہ: سادگی، صدقہ اور دنیا سے بے رغبتی
صحیح بخاری : ۴۴۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا ، وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً " .
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن حکیم) نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے، نہ دینار، نہ کوئی غلام نہ باندی، سوا اپنے سفید خچر کے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوا کرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور ترکہ ہے۔ عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ غلام، نہ باندی۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس صرف سفید خچر تھا جس پر آپ صلى الله عليه وسلم سوار ہوتے تھے، آپ صلى الله عليه وسلم کا ہتھیار تھا، اور کچھ زمین تھی جسے آپ صلى الله عليه وسلم نے مسافروں اور ضرورت مندوں کے لیے صدقہ کر رکھا تھا۔ اس حدیث سے نبی صلى الله عليه وسلم کی دنیا سے بے رغبتی اور سادہ زندگی سامنے آتی ہے۔ یہاں دولت جمع کرنے کا ذکر نہیں، بلکہ جو کچھ تھا وہ بھی ضرورت، سواری، دفاع، اور مسافر کی مدد سے متعلق تھا۔ یہ حدیث انسان کو مال کے بجائے مقصد اور خدمت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دنیاوی مال جمع کر کے نہیں چھوڑا۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کی زمین مسافروں اور ضرورت مندوں کے لیے صدقہ تھی۔
- سادگی اور خدمت اس روایت میں صاف دکھائی دیتی ہے۔
- مال کی اصل خوبی اس کے اچھے استعمال میں ہے۔
