حدیث ۴۳۶۶
بنو تمیم کی فضیلت: دجال کے مقابل مضبوطی اور نسب کا بیان
صحیح بخاری : ۴۳۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۶۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ : " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ " ، وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ ، فَقَالَ : " هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي " .
´مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت رکھتا ہوں جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں میں نے سنی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ بنو تمیم دجال کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے اور بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے اور ان کے یہاں سے زکوٰۃ وصول ہو کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک قوم کی یا (یہ فرمایا کہ) یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بنو تمیم کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ بنو تمیم سے محبت رکھتے رہے، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں تین باتیں سنیں۔ پہلی بات یہ کہ بنو تمیم دجال کے مقابل میری امت کے سب سے سخت لوگ ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان میں سے ایک قیدی خاتون تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔ تیسری بات یہ کہ جب ان کی زکوٰۃ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قوم کی، یا میری قوم کی زکوٰۃ فرمایا۔ اس حدیث میں محبت کی بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی اور اچھے اوصاف کو بنایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی قوم یا فرد سے محبت دینی خوبیوں کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔
- دجال کے فتنے کے مقابل ثابت قدمی ایک بڑی خوبی ہے۔
- قیدی کے معاملے میں نسب اور احترام کو ملحوظ رکھا گیا۔
- زکوٰۃ کی ادائیگی قوم کی دینی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
