حدیث ۴۳۴۷

زکوٰۃ اور مظلوم کی دعا: معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی نصیحت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۴۷

حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ : " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ ، فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : طَوَّعَتْ طَاعَتْ ، وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ طِعْتُ ، وَطُعْتُ ، وَأَطَعْتُ .

´مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا (حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے، جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور انہیں کے غریبوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب یہ بھی مان جائیں تو (پھر زکوٰۃ وصول کرتے وقت) ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ المائدہ میں جو «طوعت‏» کا لفظ آیا ہے اس کا وہی معنی ہے جو «طاعت» اور «أطاعت» کا ہے جیسے کہتے ہیں «طعت وطعت وأطعت‏.‏» سب کا معنی ایک ہی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت دعوت کا ترتیب وار طریقہ بتایا۔ پہلے اہل کتاب کو توحید اور رسالت کی گواہی کی دعوت دینی ہے۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پھر جب وہ اس کو بھی مان لیں تو انہیں زکوٰۃ کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے غریبوں میں لوٹائی جائے گی۔ اس حدیث میں زکوٰۃ کی حدیث، پانچ نمازوں کی فرضیت اور مظلوم کی دعا کا بہت صاف بیان ہے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا کہ زکوٰۃ لیتے وقت لوگوں کا بہترین مال نہ لیا جائے اور مظلوم کی آہ سے بچا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں سب سے پہلے توحید اور رسالت کی گواہی کی طرف بلانا چاہیے۔
  • پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہیں۔
  • زکوٰۃ مالداروں سے لے کر غریبوں تک پہنچائی جاتی ہے۔
  • مظلوم کی دعا سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان رکاوٹ نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں