حدیث ۴۲۸۸

بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۸۸

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَأُخْرِجَتْ ، فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا مِنَ الْأَزْلَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ، لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ " ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ ، وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ " .تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ وُهَيْبٌ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

´مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو بیت اللہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں بت موجود رہے بلکہ آپ نے حکم دیا تو بتوں کو باہر نکال دیا گیا۔ انہیں میں ایک تصویر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی بھی تھی اور ان کے ہاتھوں میں (پانسہ) کے تیر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان مشرکین کا ناس کرے ‘ انہیں خوب معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے کبھی پانسہ نہیں پھینکا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اندر چاروں طرف تکبیر کہی پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی تھی۔ عبدالصمد کے ساتھ اس حدیث کو معمر نے بھی ایوب سے روایت کیا اور وہیب بن خالد نے یوں کہا ‘ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب مکہ آئے تو بیت اللہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک اندر بت موجود تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے بت نکال دیے گئے۔ ان میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی تصویر بھی تھی، جس میں ان کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر دکھائے گئے تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مشرکین کو خوب معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے کبھی پانسہ نہیں پھینکا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے، اندر چاروں طرف تکبیر کہی، اور باہر تشریف لے آئے۔ اس روایت میں یہ بھی صاف آیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ بیت اللہ کی حدیث، بتوں کو نکالنے کی حدیث، اور ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی تصویر کا واقعہ اسی متن سے سمجھا جانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے بیت اللہ میں داخل ہونے سے پہلے بت نکلوائے۔
  • انبیاء علیہم السلام کی طرف غلط بات منسوب کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
  • بیت اللہ میں داخل ہو کر آپ صلى الله عليه وسلم نے تکبیر کہی۔
  • اس خاص روایت کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں