حدیث ۴۲۸۷
جاء الحق وزهق الباطل حدیث: توحید اور فتح مکہ
صحیح بخاری : ۴۲۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۸۷
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ " .
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق، وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ ”حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث فتح مکہ کے دن کا ایک بہت اہم منظر بیان کرتی ہے۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ ان بتوں کو مارتے جاتے اور آیت پڑھتے جاتے: جاء الحق وزهق الباطل، یعنی حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع توحید ہے۔ بیت اللہ، جو اللہ کی عبادت کے لیے ہے، اسے بتوں سے پاک کیا گیا۔ اس میں یہ بات صاف ہے کہ حق مضبوط ہوتا ہے اور باطل کا سہارا کمزور ہوتا ہے۔ حق و باطل کی حدیث، بت شکنی کی حدیث، اور فتح مکہ کا واقعہ تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت مشہور اور معنی خیز ہے، مگر اس کی وضاحت حدیث کے الفاظ ہی کے اندر رہ کر کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیت اللہ کو شرک کے آثار سے پاک کیا گیا۔
- حق کے سامنے باطل کمزور پڑتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے دن قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔
- توحید اسلام کا بنیادی پیغام ہے۔
