حدیث ۳۸۰۶
قرآن چار صحابہ سے سیکھو: علم قرآن کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۸۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيٍّ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " .
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرآن چار (صحابہ) عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے سیکھو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرآن سیکھنا ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: قرآن چار صحابہ سے سیکھو؛ عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم۔ اس حدیث میں قرآن سیکھنے کی حدیث، قرآن کے قاری صحابہ، عبداللہ بن مسعود کی فضیلت اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے الفاظ آتے ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کے علم قرآن کی طرف خاص رہنمائی فرمائی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ قرآن معتبر اہل علم سے سیکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنے کے لیے معتبر اور ماہر اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے علم قرآن کی خاص نشاندہی فرمائی۔
- عبداللہ بن مسعود، سالم، ابی اور معاذ رضی اللہ عنہم قرآن کے بڑے ماہر صحابہ میں سے تھے۔
- دینی علم میں استاد کا انتخاب اہم ہے۔
