حدیث ۳۴۵۹

امت محمدیہ کا اجر: عصر سے مغرب تک کام کرنے والوں کی مثال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۵۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ ، قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ ، قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً ، قَالَ : اللَّهُ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ " .

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا زمانہ پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت ہے، تمہاری مثال یہود و نصاریٰ کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کچھ مزدور لیے اور کہا کہ میرا کام آدھے دن تک کون ایک ایک قیراط کی اجرت پر کرے گا؟ یہود نے آدھے دن تک ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کام کرنا طے کر لیا۔ پھر اس شخص نے کہا کہ آدھے دن سے عصر کی نماز تک میرا کام کون شخص ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کرے گا۔ اب نصاریٰ ایک ایک قیراط کی مزدوری پر آدھے دن سے عصر کے وقت تک مزدوری کرنے پر تیار ہو گئے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر کون شخص میرا کام کرے گا؟ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ تمہیں ہو جو دو دو قیراط کی مزدوری پر عصر سے سورج ڈوبنے تک کام کرو گے۔ تم آگاہ رہو کہ تمہاری مزدوری دگنی ہے۔ یہود و نصاریٰ اس فیصلہ پر غصہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کو کم ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کیا میں نے تمہیں تمہارا حق دینے میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے امت محمدیہ کے زمانے اور اجر کو ایک مثال سے سمجھایا۔ یہود کو آدھے دن تک ایک قیراط، نصاریٰ کو آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط، اور اس امت کو عصر سے مغرب تک دو دو قیراط کی مزدوری سے مثال دی گئی۔ یہود و نصاریٰ نے کہا کہ ہم نے زیادہ کام کیا اور اجر کم ملا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کمی کی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ میرا فضل ہے، جسے چاہوں دیتا ہوں۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کا فضل، امت کا اجر، اور حق دینے میں عدل ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کسی کا حق کم نہیں کرتا، اور اپنا فضل جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ کسی کا حق کم نہیں کرتا۔
  • امت محمدیہ کے اجر کو حدیث میں دوگنا مثال سے بیان کیا گیا۔
  • اللہ کا فضل اس کی مشیت سے ہے، بندے اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔
  • کم وقت میں بھی اللہ کے فضل سے اجر بڑھ سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں