حدیث ۳۴۰۹

آدم اور موسیٰ علیہما السلام کی بحث: تقدیر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ " .

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موسیٰ اور آدم علیہم السلام نے آپس میں بحث کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہیں ان کی لغزش نے جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام بولے اور آپ موسیٰ علیہ السلام ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے نوازا ‘ پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کر دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چنانچہ آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو بیان ہوئی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کی لغزش کی وجہ سے آپ جنت سے نکلے۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ موسیٰ ہیں، اللہ نے آپ کو رسالت اور کلام سے نوازا، پھر آپ مجھے ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے پہلے مقدر ہو چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ اس حدیث میں تقدیر کا بیان ہے، مگر اس سے گناہ کو ہلکا سمجھنے کی بات نہیں نکلتی۔ متن میں اصل بات یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے اس واقعے کے مقدر ہونے کا ذکر کیا، اور یہی ان کی دلیل بنی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تقدیر اللہ کے علم اور حکم کے تابع ہے۔
  • بعض معاملات انسان کی پیدائش سے پہلے مقرر ہو چکے ہوتے ہیں۔
  • بحث میں دلیل واضح ہو تو بات سمجھ آتی ہے۔
  • انبیاء علیہم السلام کی گفتگو بھی اللہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں