حدیث ۳۱۷۲

مدینہ حرم ہے اور مسلمانوں کا عہد ایک ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، فَقَالَ : فِيهَا الْجِرَاحَاتُ وَأَسْنَانُ الْإِبِلِ وَالْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى فِيهَا مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ، وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ .

´مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے بیان کیا کہ` علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا، جس میں فرمایا کہ کتاب اللہ اور اس ورق میں جو کچھ ہے، اس کے سوا اور کوئی کتاب (احکام شریعت کی) ایسی ہمارے پاس نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، پھر آپ نے فرمایا کہ اس میں زخموں کے قصاص کے احکام ہیں اور دیت میں دئیے جانے والے کی عمر کے احکام ہیں اور یہ کہ مدینہ حرم ہے عیر پہاڑی سے فلاں (احد پہاڑی) تک۔ اس لیے جس شخص نے کوئی نئی بات (شریعت کے اندر داخل کی) یا کسی ایسے شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل۔ اور یہ بیان ہے جو لونڈی غلام اپنے مالک کے سوا کسی دوسرے کو مالک بنائے اس پر بھی اس طرح (لعنت) ہے۔ اور مسلمان مسلمان سب برابر ہیں ہر ایک کا ذمہ یکساں ہے۔ پس جس شخص نے کسی مسلمان کی پناہ میں (جو کسی کافر کو دی گئی ہو) دخل اندازی کی تو اس پر بھی اسی طرح لعنت ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع مدینہ کی حرمت، عہد کی حفاظت، اور دینی احکام کی نسبت ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا کوئی الگ کتاب نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں۔ پھر بتایا کہ اس صحیفے میں زخموں کے قصاص، دیت میں اونٹوں کی عمروں، اور مدینہ کے حرم ہونے کا بیان ہے۔ مدینہ عیر پہاڑ سے دوسرے مقام تک حرم ہے۔ جو شخص اس میں کوئی نئی بات داخل کرے یا ایسے شخص کو پناہ دے، اس پر سخت وعید ہے۔ اسی طرح غلام کا اپنے مالک کے سوا کسی اور کو مالک بنانا اور کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑنا بھی سخت جرم بتایا گیا۔ حدیث میں مسلمانوں کے عہد کو ایک قرار دیا گیا ہے، یعنی امان کے معاملے میں ہلکے درجے کے مسلمان کی بات بھی معتبر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مدینہ کی حرمت کا احترام کرنا ضروری ہے۔
  • دین میں اپنی طرف سے نئی بات داخل کرنا خطرناک عمل ہے۔
  • مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑنا سخت جرم ہے۔
  • علی رضی اللہ عنہ نے احکام کو کتاب اللہ اور محفوظ صحیفے تک محدود بتایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں