حدیث ۲۹۹۱

خیبر میں گدھے کے گوشت کی ممانعت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : هَذَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَلَجَئُوا إِلَى الْحِصْنِ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ، وَأَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا " تَابَعَهُ عَلِيٌّ عَنْ سُفْيَانَ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ .

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں داخل تھے۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے (یہودی) پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (مع آپ کے لشکر کے) دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ (آ گئے) محمد لشکر کے ساتھ، محمد لشکر کے ساتھ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہو گئے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہو چکا۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں خیبر کے موقع کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں داخل ہوئے۔ خیبر والے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر کو دیکھتے ہیں تو قلعہ میں پناہ لیتے ہیں۔ پھر مسلمانوں کو گدھے ملے، انہوں نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کیا۔ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فوراً ہانڈیاں الٹ دیں۔ اس حدیث میں خیبر کی حدیث، گدھے کے گوشت کی ممانعت، رسول صلى الله عليه وسلم کی اطاعت، اور صحابہ کی فرمانبرداری کا صاف بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا حکم ملتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم نے فوراً عمل کیا۔
  • حدیث میں گھریلو گدھے کے گوشت سے منع کیا گیا ہے۔
  • دینی حکم کے سامنے اپنی خواہش یا محنت کو ترجیح نہیں دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں