حدیث ۲۹۹۰

قرآن مجید کو دشمن کے علاقے میں لے جانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى " أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " .

´سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں قرآن مجید کے ادب اور حفاظت سے متعلق ایک واضح حکم بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا۔ حدیث کا متن مختصر ہے، اس لیے اس کی تشریح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن مجید کو ایسی جگہ لے جانے سے روکا گیا جہاں دشمن کا علاقہ ہو۔ یہاں قرآن کی حفاظت، قرآن کا ادب، دشمن کے علاقے میں قرآن، اور قرآن لے جانے کی ممانعت جیسے الفاظ اس روایت کے اصل مضمون سے جڑتے ہیں۔ اس حدیث سے مسلمان کو یہ سمجھ آتی ہے کہ قرآن مجید کے معاملے میں احتیاط، احترام اور حفاظت کا خاص خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن مجید کے ادب اور حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • حدیث میں دشمن کے علاقے میں قرآن لے جانے سے منع کیا گیا ہے۔
  • دینی امانت کے معاملے میں بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں