حدیث ۲۹۴۵
غزوہ خیبر کی حدیث: رات میں پہنچ کر صبح تک انتظار
صحیح بخاری : ۲۹۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۴۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهَا لَيْلًا وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَا يُغِيرُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
´(دوسری سند) ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں خیبر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کسی قوم تک رات کے وقت پہنچتے تو صبح سے پہلے ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے پھاوڑے اور ٹوکرے لے کر باہر (کھیتوں میں کام کرنے کے لیے) نکلے۔ جب انہوں نے اسلامی لشکر کو دیکھا تو چیخ پڑے محمد واللہ محمد لشکر سمیت آ گئے۔ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔ اب خیبر تو خراب ہو گیا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں مجاہدانہ اتر آتے ہیں تو (کفر سے) ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں غزوہ خیبر کا ایک واضح منظر بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے، مگر آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم کے پاس رات میں پہنچتے تو صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے۔ صبح ہوئی تو یہودی اپنے اوزار، پھاوڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے۔ جب انہوں نے لشکر دیکھا تو گھبرا کر کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آ گئے۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور خیبر کے بارے میں جملہ فرمایا۔ اس حدیث میں غزوہ خیبر، صبح تک انتظار، اور نبوی طریقہ صاف نظر آتا ہے۔ خیبر کی حدیث تلاش کرنے والے لوگوں کے لیے اصل سبق یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اندھیرے میں جلد اقدام کے بجائے صبح کا انتظار فرماتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں پہنچنے پر صبح سے پہلے اقدام نہ کرتے تھے۔
- غزوہ خیبر کے واقعہ میں صبح کا انتظار واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں ترتیب اور وقت کا لحاظ نظر آتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ کے مطابق خیبر کا واقعہ ایک خاص موقع پر پیش آیا۔
