حدیث ۲۹۴۳
اذان کی حدیث: جنگ میں نبوی احتیاط اور دین کی پہچان
صحیح بخاری : ۲۹۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۴۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَ مَا يُصْبِحُ ، فَنَزَلْنَا خَيْبَرَ لَيْلًا " .
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو اس وقت تک کوئی اقدام نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہو جاتی، جب صبح ہو جاتی اور اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو صبح ہونے کے بعد حملہ کرتے۔ چنانچہ خیبر میں بھی ہم رات میں پہنچے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا ایک اہم پہلو بتاتی ہے۔ جب آپ کسی قوم کی طرف جاتے تو صبح ہونے تک کوئی اقدام نہ فرماتے۔ صبح کے وقت اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ رک جاتے، اور اگر اذان نہ سنائی دیتی تو صبح کے بعد اقدام فرماتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اذان صرف نماز کی دعوت نہیں، بلکہ اسلامی شناخت کی ایک واضح علامت بھی ہے۔ اس حدیث میں خیبر کا ذکر بھی آیا ہے کہ وہاں رات کے وقت پہنچا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلد بازی کے بجائے نشانیوں کو دیکھتے، وقت کا لحاظ رکھتے اور صبح تک انتظار فرماتے۔ اذان کی حدیث سرچ کرنے والے لوگ عموماً یہی جاننا چاہتے ہیں کہ اذان سن کر آپ کا طریقہ کیا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان مسلم آبادی کی پہچان کے طور پر سامنے آتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہم اقدام میں صبح تک انتظار فرماتے تھے۔
- فیصلہ کرنے سے پہلے واضح علامت دیکھی جاتی تھی۔
- اس حدیث میں جلد بازی کے بجائے احتیاط کا طریقہ دکھایا گیا ہے۔
