حدیث ۲۷۱۶
کھجور کے باغ کی بیع کی حدیث: پھل کس کا ہو گا؟
صحیح بخاری : ۲۷۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی تو اس کا پھل (اس سال کے) بیچنے والے ہی کا ہو گا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے (تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے باغ کی بیع کا ایک صاف حکم بیان فرمایا۔ اگر کسی نے ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی، تو اس سال کا پھل بیچنے والے کا ہو گا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے تو پھر معاملہ شرط کے مطابق ہو گا۔ کھجور کے باغ کی بیع کی حدیث روزمرہ خرید و فروخت کے لیے بہت کام کی بات بتاتی ہے کہ سودا کرتے وقت چیزوں کو واضح کرنا چاہیے۔ پھل، باغ، شرط اور خریداری کے معاملے میں اگر بات پہلے سے طے ہو جائے تو بعد کا جھگڑا کم ہوتا ہے۔ حدیث میں اصل حکم بھی بیان ہوا اور شرط کی گنجائش بھی، اس لیے خریدار اور بیچنے والے دونوں کو صاف بات کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کے باغ کا موجودہ پھل اصل حکم میں بیچنے والے کا ہے۔
- خریدار شرط لگا دے تو پھل بھی بیع میں شامل ہو سکتا ہے۔
- خرید و فروخت میں شرط واضح ہونی چاہیے۔
- مالی معاملے میں ابہام جھگڑے کا سبب بن سکتا ہے۔
