حدیث ۲۶۱۵
ریشم کی خوبصورتی اور جنت کی نعمت کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ ، " وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ " ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " .
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے (مردوں کو) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی (کہ کتنا عمدہ ریشم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تمہیں اس پر حیرت ہے) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع ریشم اور جنت کی نعمت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں دبیز ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا، جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم مردوں کو ریشم کے استعمال سے منع فرماتے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اس جبے کی خوبصورتی پر حیران ہوئے۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس ذات کے ہاتھ میں محمد صلى الله عليه وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اس حدیث میں دنیا کی خوبصورتی کے مقابلے میں جنت کی نعمت کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری خوبصورتی انسان کو اصل انجام سے غافل نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی خوبصورت چیزیں جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں کم ہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم مردوں کو ریشم کے استعمال سے منع فرماتے تھے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کسی خوبصورت چیز پر حیران ہو سکتے تھے۔
- جنت کی نعمتوں کا ذکر دل کو آخرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
