حدیث ۲۶۱۱

ہدیہ اور ملکیت کا صاف معاملہ: اونٹ والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۱

وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ ، فَابْتَاعَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ " .

´اور حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا اور پھر فرمایا عبداللہ! تو یہ اونٹ لے جا (میں نے یہ تجھ کو بخش دیا)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۱ کا خلاصہ

اس روایت میں سفر کا ایک مختصر واقعہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے خرید لیا، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ تمہارے لیے ہے۔ اس حدیث میں ہدیہ دینے سے پہلے ملکیت کا صاف ہونا نظر آتا ہے۔ پہلے خرید و فروخت ہوئی، پھر ہدیہ دیا گیا۔ یہ بات معاملات کی صفائی سکھاتی ہے۔ جب کسی چیز کا مالک ہونا واضح ہو جائے، تو اسے کسی کو عطا کرنا آسان اور بے جھگڑا ہوتا ہے۔ ہدیہ محبت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدیہ دینے سے پہلے ملکیت کا معاملہ صاف ہونا چاہیے۔
  • خرید و فروخت واضح الفاظ سے ہو سکتی ہے۔
  • ہدیہ محبت اور شفقت کا اظہار ہو سکتا ہے۔
  • سفر میں بھی آداب اور معاملات کا خیال رکھا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں