حدیث ۲۵۷۷
صدقہ اور ہدیہ کی حدیث: بریرہ رضی اللہ عنہا کا گوشت
صحیح بخاری : ۲۵۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۷۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ ، فَقِيلَ : تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ ، قَالَ : هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے (جب ان کے یہاں سے پہنچا تو) ہدیہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک لطیف مگر اہم بات بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، پھر بتایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ یعنی جب گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کے طور پر ملا، تو وہ ان کا حق بن گیا۔ پھر ان کے گھر سے جب وہ نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آیا تو اس کی حیثیت ہدیہ کی ہو گئی۔ صدقہ اور ہدیہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ چیز کی حیثیت اس کے منتقل ہونے کے طریقے سے بدل سکتی ہے، مگر یہ بات اسی واقعے کی حد میں سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے وہ گوشت صدقہ تھا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے لیے وہی چیز ہدیہ بن گئی۔
- کسی چیز کا حکم اس کے پہنچنے کے طریقے سے بدل سکتا ہے۔
