حدیث ۲۵۶۸

ہدیہ قبول کرنے کی حدیث: سادگی اور خوش دلی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۶۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ أَوْ كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ أَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ " .

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا شعبہ سے، وہ سلیمان سے، وہ ابوحازم سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر مجھے بازو اور پائے (کے گوشت) پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا اور مجھے بازو یا پائے (کے گوشت) کا تحفہ بھیجا جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور عاجزی صاف دکھائی دیتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے بازو یا پائے کے گوشت پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا، اور اگر ایسا ہدیہ بھیجا جائے تو اسے بھی قبول کر لوں گا۔ ہدیہ قبول کرنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دعوت کی قدر اس کے بڑے یا قیمتی ہونے سے نہیں، بلکہ دینے والے کی نیت اور تعلق سے ہوتی ہے۔ یہ بات عام زندگی کے لیے بہت آسان سبق ہے۔ ہم اکثر معمولی دعوت یا چھوٹے تحفے کو کم سمجھ لیتے ہیں، مگر اس حدیث میں سادہ چیز کو بھی قبول کرنے کا ادب سکھایا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت معمولی ہو تب بھی اسے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • ہدیہ کی قیمت کم ہو تو بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔
  • سادگی اور خوش دلی تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں