حدیث ۲۵۲۱

مشترک غلام آزاد کرنے کی حدیث اور انصاف کا اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۲۱

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُعْتَقُ " .

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ساجھیوں کے درمیان ساجھے کے غلام کو اگر کسی ایک ساجھی نے آزاد کیا، تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو باقی حصوں کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا۔ پھر (اسی کی طرف سے) پورے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مشترک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر دو شریکوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے، تو معاملہ ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو باقی حصوں کی قیمت لگائی جائے گی، پھر اس کی طرف سے پورا غلام آزاد کر دیا جائے گا۔ اس میں غلام کی آزادی، شریکوں کے حق، اور مالی انصاف تینوں باتیں جمع ہیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی کرتے وقت دوسروں کے حقوق بھی نظر انداز نہیں کیے جاتے۔ عتق کی حدیث میں عدل کے ساتھ قیمت لگانے کی بات صاف طور پر آئی ہے، اس لیے کسی شریک کو نقصان دیے بغیر آزادی مکمل کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشترک چیز میں نیکی کرتے وقت دوسرے شریکوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔
  • غلام آزاد کرنے کا معاملہ انصاف کے ساتھ قیمت لگا کر مکمل کیا جائے۔
  • مالدار شخص پر باقی حصوں کی قیمت ادا کر کے آزادی مکمل کرنا لازم بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں