حدیث ۲۴۹۸
نقد و ادھار کی حدیث: بیع صرف میں احتیاط
صحیح بخاری : ۲۴۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۸
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ ، فَقَالَ : اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيكٌ لِي شَيْئًا يَدًا بِيَدٍ وَنَسِيئَةً ، فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَخُذُوهُ ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَذَرُوهُ " .
´ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عثمان نے جو اسود کے بیٹے ہیں، کہا کہ مجھے سلیمان بن ابی مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ` میں نے ابوالمنہال سے بیع صرف نقد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے ایک شریک نے کوئی چیز (سونے اور چاندی کی) خریدی نقد پر بھی اور ادھار پر بھی۔ پھر ہمارے یہاں براء بن عازب رضی اللہ عنہ آئے تو ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے شریک زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بیع کی تھی اور ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو نقد ہو وہ لے لو اور جو ادھار ہو اسے چھوڑ دو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۸ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کی طرح بیع صرف کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ ابو المنہال نے نقد بیع صرف کے بارے میں سوال کیا۔ جواب میں بتایا گیا کہ ایک معاملہ ان کے اور شریک کے درمیان ہوا، جس میں کچھ حصہ نقد تھا اور کچھ ادھار۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہی صورت پیش آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہاتھوں ہاتھ ہو اسے لے لو، اور جو ادھار ہو اسے چھوڑ دو۔ اس سے لین دین میں احتیاط، صافگی اور شرعی حد کا خیال رکھنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع صرف میں ہاتھوں ہاتھ ہونے والے حصے کو اختیار کیا گیا۔
- ادھار والے حصے کو چھوڑنے کی واضح ہدایت دی گئی۔
- شراکت کے کاروبار میں دونوں شریکوں کو شرعی حکم معلوم کرنا چاہیے۔
- مالی معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو معیار بنایا گیا۔
