حدیث ۲۴۹۶

شفعہ کا حق کب تک ہے؟ غیر تقسیم شدہ جائیداد کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۶

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس جائیداد میں شفعہ کا حق دیا تھا جس کی شرکاء میں ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن اگر حد بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ کا حق باقی نہیں رہتا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۶ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی شفعہ کے حق کو صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس جائیداد میں شفعہ کا حق دیا جس کی ابھی شرکاء میں تقسیم نہ ہوئی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ملکیت مشترک ہے اور اس کے حصے الگ نہیں ہوئے، شریک کے لیے شفعہ کا حق معتبر ہے۔ لیکن جب حدود قائم ہو جائیں اور راستے بھی جدا ہو جائیں تو پھر یہ حق باقی نہیں رہتا۔ یہ روایت معاملات میں وضاحت، شریک کے حق کی حفاظت اور تقسیم کے بعد ملکیت کی آزادی کو سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شفعہ تقسیم سے پہلے مشترک جائیداد میں ہوتا ہے۔
  • حدود اور راستے الگ ہو جائیں تو شفعہ ختم ہو جاتا ہے۔
  • ملکیت کے معاملات میں واضح حد بندی ضروری ہے۔
  • شریعت نے شریک کے حق اور دوسرے مالک کے حق دونوں کو متوازن رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں