حدیث ۲۴۹۵
شفعہ کی حدیث: مشترک جائیداد میں شریک کا حق
صحیح بخاری : ۲۴۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زبیری نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ایسے اموال (زمین جائیداد وغیرہ) میں دیا تھا جن کی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب اس کی حد بندی ہو جائے اور راستے بھی بدل دیے جائیں تو پھر شفعہ کا کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۵ کا خلاصہ
یہ شفعہ کی حدیث مشترک جائیداد کے حق کو سمجھاتی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ایسے اموال میں دیا جن کی تقسیم ابھی نہ ہوئی ہو۔ یعنی زمین یا جائیداد مشترک ہو، حدود الگ نہ ہوئی ہوں اور راستے بھی جدا نہ کیے گئے ہوں تو شریک کا حق باقی رہتا ہے۔ لیکن جب حد بندی ہو جائے اور راستے بھی بدل یا الگ کر دیے جائیں تو پھر شفعہ کا حق باقی نہیں رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے مشترک ملکیت میں شریک کے مفاد کا خیال رکھا، مگر تقسیم مکمل ہو جانے کے بعد اس حق کی حد بھی واضح کر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شفعہ کا حق غیر تقسیم شدہ مشترک جائیداد میں بیان ہوا ہے۔
- حد بندی اور راستے الگ ہو جانے کے بعد شفعہ باقی نہیں رہتا۔
- شریک کے مفاد کی حفاظت کے ساتھ ملکیت کی حدود بھی واضح رکھی گئیں۔
- جائیداد کے معاملے میں صاف تقسیم جھگڑے کم کر سکتی ہے۔
