حدیث ۲۲۸۲
حرام کمائی کی حدیث: کتے کی قیمت، زنا کی کمائی اور کاہن کی مزدوری
صحیح بخاری : ۲۲۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ " .
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ (کے زنا) کی خرچی اور کاہن کی مزدوری سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حرام کمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا: کتے کی قیمت، زانیہ کی خرچی، اور کاہن کی مزدوری۔ حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت واضح ہے کہ ہر آمدنی پاکیزہ نہیں ہوتی۔ انسان کو صرف پیسہ آنے پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مال کس راستے سے آیا ہے۔ یہاں کتے کی قیمت، زنا سے حاصل ہونے والی رقم، اور کہانت کی کمائی کو خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ حرام کمائی کی حدیث تلاش کرنے والے لوگ عموماً یہی جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام میں مال کے پاک ہونے کی کیا شرط ہے۔ اس روایت میں یہی سبق ملتا ہے کہ آمدنی کا ذریعہ بھی درست ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کمانے کا ذریعہ درست ہونا ضروری ہے۔
- زنا سے حاصل ہونے والی کمائی سے منع کیا گیا ہے۔
- کاہن کی مزدوری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
- حدیث میں تین ممنوع کمائیوں کا صاف ذکر ہے۔
