حدیث ۲۱۵۷
ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی: بیعت کی جامع حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۵۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالسَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور (اپنے مقررہ امیر کی بات) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی باتوں پر بیعت کی: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، مقرر امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنا۔ یہ حدیث ایمان، عبادت، نظم اور معاشرتی اخلاق کو ایک ساتھ جمع کرتی ہے۔ خاص طور پر ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کا ذکر بہت عملی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلمان دوسروں کے ساتھ بھلائی، سچائی اور صاف دل رویہ رکھے۔ خیرخواہی کی حدیث، نصیحت لکل مسلم، نماز، زکوٰۃ، سمع و طاعت اور بیعت کے الفاظ اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی بنیاد توحید اور رسالت کی گواہی ہے۔
- نماز اور زکوٰۃ عملی دین کا حصہ ہیں۔
- مقرر امیر کی بات سننے اور اطاعت کا ذکر آیا ہے۔
- ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی بیعت کی باتوں میں شامل ہے۔
