حدیث ۲۰۸۹

ولیمہ کے لیے جائز کمائی: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۹

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ ، أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرُسِي " .

´ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خمس“ میں سے دیا تھا۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس (جمع کر کے) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ولیمہ کے لیے جائز کوشش اور محنت ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک اونٹ غنیمت کے حصے سے تھا اور ایک اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے دیا تھا۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کا ارادہ ہوا تو انہوں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ ساتھ چل کر اذخر گھاس جمع کریں گے۔ ان کا ارادہ تھا کہ اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ کر ولیمہ کے خرچ میں مدد لیں۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شادی اور ولیمہ کے موقع پر جائز محنت، منصوبہ بندی اور اپنے وسائل استعمال کرنا اچھی بات ہے۔ یہاں فضول خرچی کا ذکر نہیں، بلکہ ضرورت کے لیے حلال طریقے سے سامان جمع کرنے کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولیمہ کے لیے جائز طریقے سے محنت کرنا درست ہے۔
  • اپنے وسائل کو ضرورت کے کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • شادی کے موقع پر خرچ کے لیے پہلے سے تدبیر کی جا سکتی ہے۔
  • روایت میں حلال کمائی اور سادہ منصوبہ بندی کا پہلو ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں