حدیث ۱۹۷۶
افضل روزہ صوم داؤد: ایک دن روزہ ایک دن افطار
صحیح بخاری : ۱۹۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أَقُولُ : وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، " فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ .
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ”اللہ کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا۔ اور ساری رات عبادت کروں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر دن میں روزہ اور رات بھر عبادت کا ارادہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس لیے روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ پھر آپ نے مہینے میں تین دن روزے کی ہدایت دی اور بتایا کہ نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کے روزے جیسا ہو جائے گا۔ جب انہوں نے زیادہ کی طاقت ظاہر کی تو آپ نے پہلے ایک دن روزہ اور دو دن افطار، پھر صوم داؤد کا طریقہ بتایا۔ آخر میں فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہمیشہ روزہ اور ہمیشہ قیام کا ارادہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
- مہینے میں تین روزے بڑی فضیلت کا عمل ہیں۔
- صوم داؤد ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ہے۔
- اس حدیث کے الفاظ کے مطابق صوم داؤد سے افضل کوئی روزہ نہیں بتایا گیا۔
