حدیث ۱۹۱۹
فجر کی اذان سے پہلے سحری ختم کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۹
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " ، قَالَ الْقَاسِمُ : وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَرْقَى ذَا ، وَيَنْزِلَ ذَا .
´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور (عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی روایت) قاسم بن محمد سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ قاسم نے بیان کیا کہ دونوں (بلال اور ام مکتوم رضی اللہ عنہما) کی اذان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ ایک چڑھتے تو دوسرے اترتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۹ کا خلاصہ
یہ حدیث سحری کے آخری وقت کو سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے تھے، اور وہ اذان فجر کے وقت کی آخری علامت نہیں تھی۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں، کیونکہ وہ صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ اس روایت میں یہ بھی آیا کہ دونوں اذانوں کے درمیان بہت کم وقفہ ہوتا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سحری کا تعلق صبح صادق سے ہے، صرف کسی بھی اذان کی آواز سے نہیں، جب تک معلوم ہو کہ وہ رات کی اذان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کا وقت صبح صادق کے طلوع تک ہے۔
- رات کی اذان اور فجر کی اذان میں فرق ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں کھانے پینے کے اختتام کی واضح حد بیان ہوئی ہے۔
- دینی عمل میں وقت کی درست پہچان ضروری ہے۔
