حدیث ۱۸۳۹
محرم کی وفات: سر نہ ڈھانکو اور خوشبو نہ لگاؤ
صحیح بخاری : ۱۸۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۳۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " .
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک محرم شخص کے اونٹ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی گردن (گرا کر) توڑ دی اور اسے جان سے مار دیا، اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں غسل اور کفن دے دو لیکن ان کا سر نہ ڈھکو اور نہ خوشبو لگاؤ کیونکہ (قیامت میں) یہ لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حجۃ الوداع کے موقع کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک محرم شخص کو اس کے اونٹ نے گرا کر گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے لایا گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے غسل دو اور کفن دو، لیکن اس کا سر نہ ڈھانکو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ، کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع محرم میت کا غسل اور کفن ہے۔ عام میت کے کفن کے احکام سے یہاں ایک خاص فرق بیان ہوا: محرم ہونے کی وجہ سے سر نہ ڈھانکا جائے اور خوشبو نہ لگائی جائے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ وہ لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا، جو اس کے احرام کی حالت سے متعلق ہے۔ اس روایت سے محرم کی حالت کی خاص حرمت اور حج کی نیت کے ساتھ وفات کی شان سمجھ آتی ہے، مگر بات کو اسی حدیث کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم میت کو غسل اور کفن دیا جائے گا۔
- اس روایت میں محرم میت کا سر نہ ڈھانکنے کا حکم آیا۔
- محرم میت کو خوشبو نہ لگانے کی ہدایت دی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا۔
