حدیث ۱۷۲۰

ہدی نہ رکھنے والے کا حلال ہونا اور ازواج کی قربانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۲۰

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بالبيت ، ثُمَّ يَحِلُّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ " , قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ ، فَقَالَ : أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .

´ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ` ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ (ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ مدینہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نکلیں، ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے، اور ان کا ارادہ صرف حج کا تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ پھر بقر عید کے دن ان کے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع ہدی نہ ہونے کی صورت میں حلال ہونا اور قربانی کا گوشت ہے۔ آخر میں قاسم بن محمد نے عمرہ کی روایت کو درست انداز سے بیان کیا ہوا قرار دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جن کے ساتھ ہدی نہ تھی، انہیں بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہونے کا حکم دیا گیا۔
  • بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا، جسے ازواج کی طرف سے قربانی بتایا گیا۔
  • روایت میں حج کے ارادے، مکہ کے قریب پہنچنے اور حکم کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں