حدیث ۱۶۷۸
کمزور اہل خانہ کے ساتھ مزدلفہ سے پہلے روانگی
صحیح بخاری : ۱۶۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۷۸
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ` میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۸ کا خلاصہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس حدیث میں خود بتاتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا۔ یہ روایت 1677 کی بات کو مزید واضح کرتی ہے، کیونکہ یہاں کمزور افراد کا ذکر صاف آ گیا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ضعفا، مزدلفہ کی رات، منیٰ روانگی اور حج میں آسانی ہے۔ الفاظ سے بس اتنا ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے کمزور اہل کے ساتھ کچھ لوگوں کو پہلے روانہ کیا۔ اس میں رمی، نماز یا دوسرے اعمال کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے وضاحت اسی حد تک رہے گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کمزور اہل خانہ کے ساتھ کچھ لوگوں کو پہلے روانہ کیا۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما خود اس گروہ میں شامل تھے۔
- مزدلفہ کی رات منیٰ روانگی کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
- حدیث میں کمزور افراد کے لیے سہولت کا پہلو سامنے آتا ہے۔
