حدیث ۱۶۷۳
مزدلفہ میں دو اقامتیں: مغرب اور عشاء کا عمل
صحیح بخاری : ۱۶۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۷۳
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا ، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " .
´ہم سے آدم بن ابی العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` مزدلفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھیں تھیں ہر نماز الگ الگ تکبیر کے ساتھ نہ ان دونوں کے درمیان کوئی نفل و سنت پڑھی تھی اور نہ ان کے بعد۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۳ کا خلاصہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔ ہر نماز الگ اقامت کے ساتھ پڑھی گئی۔ حدیث میں یہ بھی صاف آیا ہے کہ نہ دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل یا سنت پڑھی گئی، اور نہ ہر نماز کے بعد۔ اس حدیث کا اصل موضوع مزدلفہ میں مغرب عشاء جمع، الگ اقامت اور نفل نہ پڑھنا ہے۔ یہ روایت 1672 کی بات کو مختصر انداز میں مزید واضح کرتی ہے۔ حج کے اس خاص موقع پر نماز کا طریقہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے سمجھ آتا ہے، نہ کہ عام اندازے سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع پڑھنا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
- ہر نماز کے لیے الگ اقامت کہی گئی۔
- دونوں نمازوں کے درمیان نفل یا سنت نہیں پڑھی گئی۔
- اس خاص مقام پر نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل نماز کے طریقے کو واضح کرتا ہے۔
