حدیث ۱۶۶۸

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع پڑھنے کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۶۸

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ يَمُرُّ بِالشِّعْبِ الَّذِي أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَدْخُلُ فَيَنْتَفِضُ وَيَتَوَضَّأُ وَلَا يُصَلِّي حَتَّى يُصَلِّيَ بِجَمْعٍ " .

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں آ کر نماز مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھتے، البتہ آپ اس گھاٹی میں بھی مڑتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے تھے۔ وہاں آپ قضائے حاجت کرتے پھر وضو کرتے لیکن نماز نہ پڑھتے، نماز آپ مزدلفہ میں آ کر پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۶۸ کا خلاصہ

اس روایت میں نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تھے۔ وہ اس گھاٹی سے بھی گزرتے جہاں نبی صلى الله عليه وسلم مڑے تھے۔ وہاں وہ قضائے حاجت کرتے، وضو کرتے، مگر نماز نہیں پڑھتے تھے۔ نماز مزدلفہ پہنچ کر پڑھتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع مزدلفہ کی نماز، مغرب عشاء جمع، عرفات سے واپسی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی ہے۔ یہ روایت دکھاتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما حج کے سفر میں نبی صلى الله عليه وسلم کے راستے اور عمل کا خاص خیال رکھتے تھے، مگر نماز کا مقام مزدلفہ ہی رکھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں جمع پڑھنا ثابت عمل ہے۔
  • راستے میں وضو کیا جا سکتا ہے، مگر نماز مزدلفہ میں پڑھی گئی۔
  • عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرتے تھے۔
  • حج میں جگہ اور وقت دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں