حدیث ۱۶۳۰
فجر کے بعد طواف اور طواف کی دو رکعت کا عمل
صحیح بخاری : ۱۶۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۰
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قال : " رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَطُوفُ بَعْدَ الْفَجْرِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .
´ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیدہ بن حمیدنے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ` آپ فجر کی نماز کے بعد طواف کر رہے تھے اور پھر آپ نے دو رکعت (طواف کی) نماز پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ فجر کی نماز کے بعد طواف کر رہے تھے اور پھر انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس حدیث کا موضوع فجر کے بعد طواف اور طواف کی نماز ہے۔ یہاں ایک صحابی کا عمل بیان ہوا ہے، اس لیے اسے اسی انداز سے سمجھنا چاہیے۔ پچھلی روایات میں نماز کے مکروہ اوقات کا ذکر بھی آتا ہے، اس لیے اس باب میں اہل علم تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اس روایت سے کم از کم یہ بات واضح ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فجر کے بعد طواف کرتے تھے اور طواف کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے۔ عام قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ حج و عمرہ کے اعمال میں صحابہ کے عمل کو بھی دینی رہنمائی سمجھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فجر کے بعد طواف کرتے دیکھے گئے۔
- طواف کے بعد دو رکعت پڑھنے کا عمل اس روایت میں مذکور ہے۔
- ایسے مسائل میں صحابہ کرام کے عمل کو سمجھنا اہم ہے۔
