حدیث ۱۶۲۷

طواف کعبہ کے بعد مقام ابراہیم کی دو رکعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۷

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قال : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بالبيت سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا , وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں کہا کہ عم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات چکروں سے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا کی طرف (سعی کرنے) گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے، خانہ کعبہ کا سات چکروں سے طواف کیا، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا کی طرف گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی موقع پر قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع طواف کعبہ، مقام ابراہیم کی نماز اور صفا مروہ کی سعی کی ترتیب ہے۔ عام قاری کے لیے اس میں بڑی واضح رہنمائی ہے کہ حج اور عمرہ کے اعمال اپنی پسند سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق سیکھے اور ادا کیے جائیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف کعبہ سات چکروں سے ادا کیا گیا۔
  • طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل حج و عمرہ میں بہترین نمونہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں