حدیث ۱۳۹۱

عائشہ رضی اللہ عنہا کی وصیت: عاجزی اور تعریف سے بچنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۹۱

وَعن هشام , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّهَا أَوْصَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا تَدْفِنِّي مَعَهُمْ ، وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ لَا أُزَكَّى بِهِ أَبَدًا .

´ہشام اپنے والد سے اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کی تھی کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ دفن نہ کرنا۔ بلکہ میری دوسری سوکنوں کے ساتھ بقیع غرقد میں مجھے دفن کرنا۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ میری بھی تعریف ہوا کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک وصیت بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کی کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ دفن نہ کرنا، بلکہ میری دوسری سوکنوں کے ساتھ بقیع غرقد میں دفن کرنا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ میری بھی تعریف ہوا کرے۔ اس حدیث کا اصل سبق عاجزی، اپنی تعریف سے بچنا، اور موت کے بعد بھی دل کی صفائی ہے۔ متن میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا انتخاب بیان ہوا ہے۔ اسے بڑھا کر کسی عام حکم کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے، مگر عاجزی کا پہلو بہت صاف سمجھ آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی تدفین کے بارے میں واضح وصیت کی۔
  • انہوں نے خاص تعریف سے بچنے کی خواہش ظاہر کی۔
  • بقیع میں اپنی سوکنوں کے ساتھ دفن ہونے کو پسند کیا۔
  • حدیث میں عاجزی اور اپنے لیے شہرت نہ چاہنے کا خوبصورت پہلو ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں