حدیث ۱۲۶۵
محرم کی میت کی حدیث: خوشبو نہ لگاؤ، سر نہ ڈھانپو
صحیح بخاری : ۱۲۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ : فَأَوْقَصَتْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے، ان سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک شخص میدان عرفہ میں (احرام باندھے ہوئے) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا۔ یا ( «وقصته» کے بجائے یہ لفظ) «أوقصته» کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ۔ کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث محرم کی میت کے بارے میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص میدان عرفہ میں احرام کی حالت میں کھڑا تھا، پھر اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، دو کپڑوں میں کفن دو، خوشبو نہ لگاؤ اور سر نہ ڈھانپو۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ اس روایت میں محرم کی حالت کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے۔ عام غسل میت کے ساتھ یہاں احرام کی حالت بھی سامنے ہے، اسی لیے خوشبو اور سر ڈھانپنے سے منع کیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ جس حالت میں وہ بندہ حج کے عمل میں تھا، اسی کا لحاظ جنازہ کی تیاری میں رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینے کا ذکر ہے۔
- اس روایت میں دو کپڑوں کے کفن کی ہدایت آئی ہے۔
- محرم کو خوشبو لگانے اور سر ڈھانپنے سے منع کیا گیا۔
- حدیث میں قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اٹھنے کا ذکر ہے۔
