حدیث ۱۱۷۸

چاشت، تین روزے اور وتر: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تین نصیحتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۷۸

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ هُوَ ابْنُ فَرُّوخَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ ، صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَصَلَاةِ الضُّحَى ، وَنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ " .

´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عباس جریری نے جو فروخ کے بیٹے تھے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۷۸ کا خلاصہ

یہ چاشت کی نماز اور تین اعمال کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میرے جانی دوست، یعنی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی کہ موت تک انہیں نہ چھوڑوں: ہر مہینے تین دن روزے رکھنا، چاشت کی نماز پڑھنا، اور وتر پڑھ کر سونا۔ اس حدیث میں تین اعمال ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ چاشت کی نماز یہاں ایک وصیت کے طور پر آئی ہے، لیکن روایت خاص طور پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بیان میں ہے۔ اس لیے تشریح میں یہی کہنا درست ہے کہ انہیں ان تین چیزوں کی وصیت کی گئی۔ متن میں نہ رکعتوں کی تعداد آئی ہے اور نہ روزوں کے مخصوص دن، اس لیے ان کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تین اعمال کی وصیت کی گئی۔
  • ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا ذکر ہے۔
  • چاشت کی نماز اس وصیت میں شامل ہے۔
  • وتر پڑھ کر سونے کا ذکر بھی اسی حدیث میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں