حدیث ۱۱۴۴

نماز کے لیے نہ اٹھنے والے شخص کے بارے میں حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقِيلَ : مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ " .

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے ابووائل سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں فرض نماز کے لیے نہ اٹھنے کی سخت تنبیہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔ یہ الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے اس حدیث کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز کے وقت غفلت میں پڑے رہنا، خاص طور پر جب انسان اٹھ سکتا ہو، بہت نقصان دہ عادت ہے۔ فجر کی نماز، فرض نماز اور بیداری کا اہتمام ایک مسلمان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں الارم، وقت پر سونا اور نماز کے لیے نیت پختہ کرنے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فرض نماز کے لیے نہ اٹھنا معمولی غفلت نہیں سمجھنی چاہیے۔
  • فجر اور دوسری نمازوں کے لیے بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • شیطان انسان کو نماز سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
  • نیند کو نماز پر غالب آنے دینا خطرناک عادت بن سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں