حدیث ۱۱۳۵
تہجد کی حدیث: رات کی نماز میں لمبا قیام اور صبر
صحیح بخاری : ۱۱۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۳۵
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ ، قُلْنَا : وَمَا هَمَمْتَ ، قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک رات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نماز میں اتنا لمبا قیام کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دل میں بیٹھ جانے کا خیال آیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا، تو انہوں نے صاف بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی صلى الله عليه وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔ اس سے تہجد کی حدیث میں ایک سادہ بات سامنے آتی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کا قیام بہت لمبا ہوتا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اپنی کمزوری کو چھپاتے نہیں تھے، بلکہ سچائی سے بیان کرتے تھے۔ نماز تہجد، رات کی نماز، لمبا قیام اور عبادت میں صبر اس روایت کے بنیادی پہلو ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم رات کی نماز میں لمبا قیام فرماتے تھے۔
- عبادت میں تھکن محسوس ہونا انسان کی کمزوری ہے، مگر ادب کے ساتھ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام اپنی اندرونی کیفیت بھی سچائی سے بیان کرتے تھے۔
- تہجد میں قیام صبر اور توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔
